حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم کے محققین نے کئی سال کی تحقیق، جائزے اور چھان بین کے بعد پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت، سیرت اور معارف سے متعلق 60 ہزار تحقیقی سوالات اور موضوعات کو 28 علمی شعبوں میں مرتب کیا ہے۔ ’’محمدی علوم و معارف کے تحقیقی موضوعات کا مجموعہ‘‘ «مجموعه موضوعات پژوهشی علوم و معارف محمدی(ص)» کے نام سے تیار ہونے والے اس 12 جلدی مجموعے کی اسلامی وحدت کانفرنس کے دوران قم میں رونمائی کی جائے گی۔

حوزہ علمیہ کے شعبہ تحقیق کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین فرہاد عباسی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جاہلیت کے دور میں صرف 23 سال کی دعوت دین کے دوران ایک عظیم تہذیبی اور معاشرتی انقلاب برپا کیا۔ ان کے مطابق بعثت نبوی تاریخ انسانی کا سب سے بڑا واقعہ ہے اور آج بھی سیرت و معارف نبوی کو موجودہ دور کی ضروریات اور سوالات کے مطابق دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں تحقیق محض کتابوں اور کتب خانوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ نبوی تعلیمات کو آج کے انسان کے سماجی، علمی، اخلاقی اور تہذیبی مسائل کے حل کے لیے پیش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں تقریباً 70 ہزار ابتدائی موضوعات جمع کیے گئے تھے، جنہیں غیر ضروری تکرار ختم کرنے کے بعد 60 ہزار تحقیقی موضوعات کی صورت میں 28 علمی شعبوں میں منظم کیا گیا۔ ان موضوعات میں قرآن و تفسیر، تمدنی مطالعات، خواتین و خاندان، نفسیات، علوم تربیتی اور دیگر اسلامی و انسانی علوم شامل ہیں۔ آئندہ مرحلے میں ان موضوعات کی ترجیح بندی کرکے انہیں مقالوں، کتابوں، علمی نشستوں اور تحقیقی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا۔

حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پندرہ سوویں سالگرہ عالمی سطح پر اسلام، شخصیت رسول اکرم اور قرآن کے پیغام کی جانب توجہ کا اہم موقع بنی ہے۔ ان کے مطابق عدل، عقلانیت، معنویت، اخلاق، انسانی برادری اور کرامت جیسے نبوی اصول آج کی دنیا کے لیے اہم پیغامات رکھتے ہیں۔
پروجیکٹ کے محقق منصور حاجی نے بتایا کہ اس منصوبے پر تقریباً 10 سال سے کام جاری تھا۔ اس دوران داخلی و خارجی منابع، شیعہ و سنی علمی آثار اور تحقیقی مقالات کا جائزہ لے کر ان موضوعات کی نشاندہی کی گئی جن پر اب تک کم کام ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تقریباً 1500 آیات کسی نہ کسی انداز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ہیں، جس سے اس میدان میں وسیع تحقیقی امکانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کے جواب میں صرف احتجاج کافی نہیں، بلکہ علمی اور فکری میدان میں بھی مؤثر انداز سے دفاع ضروری ہے۔ ان کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مسلمانوں کے مشترکہ محور ہیں اور مسلم دنیا کو سیرت و معارف نبوی کو جدید اور قابلِ عمل نظریات کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
یہ 12 جلدی تحقیقی مجموعہ اسلامی وحدت کانفرنس کے دوران قم میں حوزہ علمیہ کے اہم علمی کارنامے کے طور پر پیش کیا جائے گا۔









آپ کا تبصرہ